Apny log
مارا گیا ہوں خواہش اپنی کے ہاتھوں
ہے دل یہ ویران اپنوں کے ہاتھوں
بھول جاؤں یہ ستم اپنے
ہے بس یہی آرزو دل کے ہاتھوں
سوچ کے وہ منظر ڈرتا ہے دل
ہو جائے نہ یہ خطا اپنے ہاتھوں
اے بادل تو بی برسنا چھوڑ۔ دے
اب تو برستی ہیں آنکھیں اپنوں کے ہاتھوں
ہے یہ صلہ چاہت کا تو گم کیا ہے
یہ تو مّلا ہے اپنوں کے ہاتھوں
مارا گیا ہوں خواہش اپنی کے ہاتھوں
ہے یہ دل ویران اپنوں کے ہاتھوں
کبیر احمد!
👁 2💬 0
Something wrong with this poem?
Replies are closed for this poem.
Your Poem's Voice
See what makes your poem unique — its voice, energy, themes, and the literary traditions it draws from.
Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts.
Log in to leave a comment.