PoemsBrowse PoemsSlamsFresh DropEchoes
LearnWriting TipsPoetry TermsPoets & ArtistsBooksFor Teachers
ExplorePoetry GenomePoem MapEchoesTake ActionGroups
AboutWrite a PoemDonateSign UpLog In

Ghazal


جس طرح دھوپ کا رنگت پہ اثر پڑتا ہے نفس کا ویسے عبادت پہ اثر پڑتا ہے ایسے مجھ پر بھی ترے غم کے نشاں دکھتے ہیں جیسے موسم کا عمارت پہ اثر پڑتا ہے صرف ماحول سے فکریں نہیں بدلا کرتیں دوستوں کا بھی طبیعت پہ اثر پڑتا ہے دشمنوں سے ہی نہیں ہوتا ہے خطرہ لاحق باغیوں سے بھی حکومت پہ اثر پڑتا ہے اب سمجھ آیا سبب مجھ کو مری پستی کا مانگ گھٹتی ہے تو قیمت پہ اثر پڑتا ہے بھوک نیکی کی لگے یا کہ لگے دنیا کی بھوک لگتی ہے تو صورت پہ اثر پڑتا ہے رزق رکتا ہے نمازوں کے قضا کرنے سے نیتیں بد ہوں تو برکت پہ اثر پڑتا ہے صاف دکھتی ہے بڑھاپے میں قضا سچ تو ہے عمر کے ساتھ بصیرت پہ اثر پڑتا ہے پاس رہنے سے ہی بڑھتی نہیں چاہت محسنؔ فاصلوں سے بھی محبت پہ اثر پڑتا ہے
©All Rights Reserved

Something wrong with this poem?

Share

Replies are closed for this poem.

Mohsin Aftab Kelapuri

View all poems →

Your Poem's Voice

See what makes your poem unique — its voice, energy, themes, and the literary traditions it draws from.

Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Log in to leave a comment.