Ghazal
آج بھی بادل برسے وقفے وقفے سے
وہ جو رونا چاہتے تھے اِک عرصے سے
اپنے اپنے سے وہ سب محسوس ہوئے
جو ملے تھے راہ میں بھولے بھٹکے سے
لگتی تھی مضبوط عمارت وعدے کی
ریت کی تھی دیوار گری جو جھٹکے سے
پتھر تک اُس راہ کے ہم کو جانتے ہیں
وہ آتی جاتی ہے جس بھی رستے سے
آج بھی کیف کی کیفیت میں ہے عادلؔ
دیکھے جب سے وہ دو نین نشیلے سے
👁 4💬 0
Something wrong with this poem?
Replies are closed for this poem.
Your Poem's Voice
See what makes your poem unique — its voice, energy, themes, and the literary traditions it draws from.
Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts.
Log in to leave a comment.