Shayar
*شاعر*
جھوٹے شاعر یہ غور سے سن لیں
شاعری سب کے بس کی بات نہیں
یہ وہ الہام ہے کہ جس کے لئے
رب ہی چنتا ہے اپنے بندوں میں
ایسے بندوں کو جن کے سینے میں
درد ہوتا ہے سارے عالم کا
جو محبت کی بات کرتے ہیں
جو اخوت کی بات کرتے ہیں
جو صداقت کی بات کرتے ہیں
ظلم کے سامنے کھڑے ہو کر
جو بغاوت کی بات کرتے ہیں
مفلسوں اور غم کے ماروں کی
جو حمایت کی بات کرتے ہیں
نا امیدی کے گھپ اندھیروں میں
جو دئے آس کے جلاتے ہیں
بغض رکھتے نہیں جو سینے میں
دشمنوں کو گلے لگاتے ہیں
سارے عالم میں امن کی خاطر
رات دن خون دل جلاتے ہیں
جن کو شہرت کی آس ہوتی نہیں
جن کو دولت کی آس ہوتی نہیں
شان و شوکت کی آس ہوتی نہیں
جو قلندر کی طرح جیتے ہیں
جو فقیروں کی طرح رہ کر بھی
بادشاہوں کی طرح جیتے ہیں۔
جھوٹے شاعر یہ غور سے سن لیں
شاعرِ بے نوا کے سینے پر
شعر اترتے ہیں آیتوں کی طرح۔۔۔۔۔۔
*محسن آفتابؔ کیلاپوری*
👁 2💬 0
Something wrong with this poem?
Replies are closed for this poem.
Your Poem's Voice
See what makes your poem unique — its voice, energy, themes, and the literary traditions it draws from.
Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts.
Log in to leave a comment.