زندگی اک سفر
غزل
تھک گیا ہوں زندگی کے سفر سے
ٹھوکریں پڑیں ہیں ہر ایک در سے
ہو گر نکالنا مطلب تو کرتے ہیں بات مجھ سے
سبھی لباسِ دوست میں ہیں میرے حریف سے
سب نے دور سے دیکھ کر لگایا اندازہ میری شخصیت کا
کسی نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو قریب سے
کر لیا ہے اب کنارہ سبہی مطلبیوں سے جنید
جو کرتے تھے بات مجھ سے اپنے ہی کسی مقصد سے
#junaidalishahgillanipoetry
(زِندّگی اِک سَفر )
👁 3💬 0
Something wrong with this poem?
Replies are closed for this poem.
Your Poem's Voice
See what makes your poem unique — its voice, energy, themes, and the literary traditions it draws from.
Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts.
Log in to leave a comment.