میں نے سوچا
میں نے سوچا تھا کے اک مدت بعد اس سے ملیں گے
اس نے کہا کہ میں اب وہ نہیں تو کیا کریں
میں نے سوچا تھا اس سے مل کر گلا کریں گے
اس نے کہا تم کون ہو ہم تم سے اب نہ ملا کریں گے
میں نے سوچا اسے حال دل سنایا کریں گے
اس نے کہا ہم بیکار کی باتیں نہیں سنا کریں گے
میں نے سوچا تھا عمر بھر ساتھ چلے گے
وجوہات کھڑے کر دیے اس نے کچھ ایسے کہ اب ہم نہ کبھی ملا کریں گے
اس نے مانگی جب اپنی غلطیوں کی معافی
تو میں نے بھی کہہ دیا کہ میں اب تھک چکی ہوں کیا کریں
زرتاشہ طارق
👁 3💬 0
Something wrong with this poem?
Replies are closed for this poem.
Your Poem's Voice
See what makes your poem unique — its voice, energy, themes, and the literary traditions it draws from.
Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts.
Log in to leave a comment.